Skip to main content

( تالیف : شمس الحق قمر AKESP,GB) ڈپٹی نذیر احمد کی زندگی اور ادب



ڈپٹی نذیر احمد : حالات زندگی و سوانح

عزیز طلبہ ڈپٹی نذیر احمد کی زندگی اور ادبی خدمات کے حوالے سے ایک مختصر تحریر پیش خدمت ہے ۔ آپ پڑھئے اور امتحان کےلیے  تیاری کیجئے۔ اس حوالے سے اگر کوئی مشکل پیش آجائے تو کمنٹ میں ضرور لکھئے گا  

پیدائشی نام          نذیر احمد
ولادت    6 دسمبر، 1836ء ریہر
وفات      3 مئی، 1912ء دہلی
اصناف ادب         ناول
معروف تصانیف  مراۃ العروس، توبتہ النصوح، بنات النعش
شمس العلماء خان بہادر حافظ ڈپٹی مولوی نذیر احمد (ریاست حیدرآباد سے انہیں غیور جنگ کا خطاب دیا گیا تھا جسے انہوں نے قبول نہیں کیا) (پیدائش: 1836ء یا 6 دسمبر 1831ء،
[1] وفات: 3 مئی 1912ء)
[2] ضلع بجنور کی تحصیل نگینہ کے ایک گاؤں ریہر میں پیدا ہوئے۔ ایک مشہور بزرگ شاہ عبدالغفور اعظم پوری کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے، لیکن آپ کے والد مولوی سعادت علی غریب آدمی تھے اور یو پی کے ضلع بجنور کے رہنے والے تھے۔


تعلیم
شروع کی تعلیم والد صاحب سے حاصل کی۔ چودہ برس کے ہوئے تو دلی آ گئے اور یہاں اورنگ آبادی مسجد کے مدرسے میں داخل ہو گئے۔ مولوی عبدالخالق ان کے استاد تھے۔

یہ وہ زمانہ تھا کہ مسلمانوں کی حالت اچھی نہ تھی۔ دہلی کے آس پاس برائے نام مغل بادشاہت قائم تھی۔ دینی مدرسوں کے طالب علم محلوں کے گھروں سے روٹیاں لا کر پیٹ بھرتے تھے اور تعلیم حاصل کرتے تھے۔ نذ یر احمد کو بھی یہی کچھ کرنا پڑتا تھا، بلکہ ان کے لیے تو ایک پریشانی یہ تھی کہ وہ جس گھر سے روٹی لاتے تھے اس میں ایک ایسی لڑکی رہتی تھی جو پہلے ان سے ہانڈی کے لیے مصالحہ یعنی مرچیں، دھنیا اور پیاز وغیرہ پسواتی تھی اور پھر روٹی دیتی تھی اور اگر کام کرتے ہوئے سُستی کرتے تھے تو ان کی انگلیوں پر سل کا بٹہ مارتی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس لڑکی سے ان کی شادی ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد دلی کالج میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے عربی، فلسفہ اور ریاضی کی تعلیم حاصل کی ۔


ملازمت
مولوی نذیر احمد نے اپنی زندگی کا آغاز ایک مدرس کی حیثیت سے کیا لیکن خداداد ذہانت اور انتھک کوششوں سے جلد ہی ترقی کرکے ڈپٹی انسپکٹر مدارس مقرر ہوئے۔ مولوی صاحب نے انگریزی میں بھی خاصی استعداد پیدا کر لی اور انڈین پینل کوڈ کا ترجمہ (تعزیرات ہند) کے نام سے کیا جو سرکاری حلقوں میں بہت مقبول ہوا اور آج تک استعمال ہوتا ہے۔ اس کے صلے میں آپ کو تحصیلدار مقرر کیا گیا۔ پھر ڈپٹی کلکٹر ہو گئے۔ نظام دکن نے ان کی شہرت سن کر ان کی خدمات ریاست میں منتقل کرا لیں جہاں انہیں آٹھ سو روپے ماہوار پر افسر بندوبست مقرر کیا گیا۔

ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد مولوی صاحب نے اپنی زندگی تصنیف و تالف میں گزاری۔ اس علمی و ادبی میدان میں بھی حکومت نے انہیں 1897ء شمس العلماء کا خطاب دیا اور 1902ء میں ایڈنبرا یونیورسٹی نے ایل ایل ڈی کی اعزازی ڈگری دی۔ 1910ء میں پنجاب یونیورسٹی نے ڈی۔ او۔ ایل کی ڈگری عطا کی۔ آپ کا انتقال 3 مئی 1912ء میں ہوا۔ آپ اردو کے پہلے ناول نگار تسلیم کیے جائے ہیں۔

تصانیف
ڈپٹی نذیر احمد
ڈپٹی نذیر احمد
ناولدیکھیں
غیر افسانویدیکھیں
متعلقہدیکھیں
دگت
مراۃ العروس (1869ء)
توبتہ النصوح
بنات النعش
ابن الوقت
رویائے صادقہ
فسانہ مبتلا
محصنات
ایامی
امہات الامہ
مواعظ حسنہ
الحقوق و الفرائض
تراجم
آپ کی ترجمہ کی ہوئی کتابوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں:

ترجمہ قرآن مجید
تعزیرات ہند (انڈین پینل کوڈ)
قانونِ انکم ٹیکس 1861ء
قانونِ شہادت 1863ء
سموات 1876ء
وفات
آخری عمر میں ڈپٹی نذیر احمد پر فالج کا حملہ ہوا اور 3 مئی 1912ء میں دلی میں وفات پا گئے۔

ڈپٹی نذیراحمد دہلوی : فن اورشخصیت ۔ ۔ محمد رضی الدین معظم
ڈپٹی نذیراحمد دہلوی : فن اورشخصیت
عہد وسطیٰ شعر کی نغمہ طرازیوں سے ایسا گونج اٹھا کہ ہم اب تک بھی میرؔ ، سوداؔ ، مومنؔ و غالبؔ پر سردھنتے ہیں لیکن دورِجدید کا تقاضہ یہ تھا کہ اردو، ادیب ، شاعری کی مسحورکن ترنم فضاؤں سے نثرکی صاف اورسلیس سرزمین پر اتریں۔ چنانچہ مولانا حالیؔ شبلی اورآزادؔ نے گو اپنی شاعرانہ تگ و دو کے شاہکار چھوڑے ہیں لیکن وہیں ان کے نثری کارنامے بھی کچھ کم شاندارنہیں ۔ اب اسے زمانے کی رفتار کہئیے یا روح العصراورپھرکچھ اور بہر کیف عہد وسطیٰ سے ادیبوں نے بجائے شاعری کے زیادہ نثر کی جانب مائل ہونے لگے۔ یوں سمجھئے کہ جدید نثر کی مثال تاریخ اورادب میں اس مصاحب کی سی ہے جو سب سے آخر دربارشاہی میں شرکت کرکے سب سے زیادہ دربار پر چھاگیا ہو۔ مولانا حالی ، علامہ اقبال اوراکبرؔ الٰہ آبادی کی اپنی طرز ادا ہے اردو شاعری میں نئی راہیں نکالی پھر بھی موضوعات کی جتنی وسعت نثر میں فروغ پائی وہ نظم نہ بن سکی۔ اورایسا ممکن بھی نہیں

ہے ۔ کیونکہ شاعری لطیف ترین جذبات کا اظہار ہوتی ہے جس میں سیاسیات ، عمرانیات تاریخ و تذکرے ، معاشیات و نفسیات اور سائینس و صحت جیسے موضوعات باربار نہیں پاسکتے۔ جدید نثر کی سب سے عظیم خوبی جذبات و خیالات کا آزادانہ اظہاررہتاہے۔ جس کے باعث تصنع اوربناوٹ کی گلکاریوں کے بجائے صفائی وسادگی ، تناسب صحت وحقائق زندگی کی سچی عکاسی ملتی ہے۔ لیکن دوہی ادیب ایسے ملتے ہیں جو باوصف ان خصوصیت کہ اپنے طرزتحریر میں یکتا و منفرد ہیں۔ وہ ہیں مولانا محمد حسین آزاد اورمولوی نذیر احمد دہلوی۔
اردو نثر نگاری میں مولوی نذیر احمد کی اہمیت دو طریقوں سے ہوتی ہے۔ ایک تو یہ کہانھوں نے سب سے پہلے اردو زبان و ادب کو ناول سے روشناس کروایااور دوسرا دہلی کی اس بامحاورہ زبان کو اپنی تخلیقات میں اس طرح محفوظ کیا کہ اس کا ریکارڈ ہمیں انکی تخلیقات کے علاوہ کہیں اور نہیں ملتا۔ طرزِ تحریر کا اندازہ کرنے کے لئے نذیر احمد کی نثری زندگی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ (۱) تراجم (۲) مذہبی تصانیف (۳) ناول نگاری۔
مولوی نذیر احمد کی مترجمی زندگی بھی دو حصوں میں تقسیم کی جاسکتی ہے ایک تو قرآن معظم کا مشہور و مقبول عام ترجمہ اور دوسرا متفرق تراجم جو انگریزی سے اردو زبان میں کئے گئے ۔ انگریزی تصانیف کے تراجم انکم ٹیکس، تعزیرات ہند، ضابطہ فوجداری کا تعلق آپ کے ابتدائی دور ہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اردو زبان میں تراجم کا آغاز اس سے کافی عرصہ قبل ہوچکا تھا۔ چنانچہ سرزمین دکن میں ۱۸۰۱ء سے ۱۸۴۰ء تک کا عرصہ تراجم کے لئے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ پھر فورٹ ولیم کالج دہلی کا دور جدید اور اواخر میں سائنٹفک سوسائٹی علی گڈھ کا قیام بھی اردو تراجم میں خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ بجز سائنٹفک سوسائٹی علی گڈھ کے دوسری علمی و تہذیبی ادارے اردو تراجم کے جو نقوش چھوڑے ہیں وہ نہیں کے مساوی ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا اردو زبان ابھی ترجمہ کی صلا حیت نہیں رکھتی تھی۔ مولوی نذیر احمد پہلے ادیب ہیں جنھوں نے ترجمہ کے لئے زبانوں کو موزوں کیا اور انگریزی علمی و فنی اصطلاحات کو اردو سانچہ میں اس طرح ڈھالا کہ وہ اس کا ایک مستقل جزبن گئی ۔خصوصاً قانونی اصطلاحات اس قدر برجستہ ہیں کہ آج بھی قانون داں اصحاب بکثرت استعمال کرتے ہیں۔ جیسے ازالہ حیثیت عرفی ، استحصال بالجبر ، تحقیر اختیار جائز، مجرمانہ ثبوت جرم سابق، حبس دوام ، حبس بیجا، حفاظت خود اختیاری وغیرہ وغیرہ ۔ ان کے علاوہ وہ اصطلاحات بھی جو آج کل عموماً متروک الاستعمال ہیں لیکن اپنی جامعیت و معنویت کے اعتبار سے قابل ذکر ہیں ۔ بے نام کا پتہ ، مزاحمت بیجا ، شرک افعال، بیمہ ثبوت، متلزم سزا، عافیت ذاتی ، قانونی مخض المعراء وغیرہ ۔
معزز قارئین ایک ایسے دور میں جب کہ سرزمین ہند کو علوم و فنون (مغربی) کی ہوا تک نہ لگی ہو بلکہ عوام لفظ اصطلاح سے بھی واقف نہ تھے نذیر احمد کا انگریزی علمی اصطلاحات کو اردو میں ترجمہ کرنا ایک نہایت ہی کٹھن امر تھا۔ اور خوبی تو اس بات کی ہے کہ نذیر احمد کے پاس تراجم کے کوئی اولیات نہ تھے پھر بھی جس حسن و خوبی سے انجام دیا آپ ہی کی شخصیت تھی۔ اردو تراجم کے بعد ان اصطلاحات کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ انگریزی اصطلاحات میں جو تاثیر و قوت رہتی ہے وہ ان میں بھی جوں کی توں باقی ہے۔ دراصل اس کی کامیابی کا راز آپ کی عربی زبان پر وہ دسترس ہے جو نذیر احمد کے لئے انگریزی اصطلاحات کو اردو زبان میں منتقل کرنے میں معاون ثابت ہوئی۔ یہیں اہلیت بیان آپ کے ترجمہ قرآن میں بھی پائی جاتی ہے۔ جیسا کہ حضرت شاہ عبدالقادرؒ اور حضرت شاہ رفیع الدینؒ کے تراجم منظر عام پر آچکے تھے لیکن ان کا انداز بیان کچھ اس طرح تھا کہ اس سے نہ صرف د ادائے مطلب کا ہی حق ادا ہوتا اورنہ اردو کی لسانی شان برقرار تھی۔ یوں سمجھئے کہ ان کا اسلوب نگاراس قدر اجنبی ہے کہ ان کی زبان سرے سے اردو ہی معلوم نہیں ہوتی ۔ برخلاف اس کے مولوی نذیر احمد کے تراجم میں ایک آیتہ کریمہ بھی ایسی نہیں ہے کہ جو ادائے مطلب میں کوتاہی برتے یا پھر بے ترتیبی ظاہر کرے۔ یوں بھی قرآن معظم کی جملہ صفات عالیہ میں ایک وصف یہ بھی ہے کہ اس سے نہایت ہی معمولی سے معمولی مطلب سے بھی انتہائی فلسفیانہ نکات اخذ کئے جاسکتے ہیں۔ لہٰذا ان دو انتہاؤں کو اس طرح ملا دینا کہ عبارت عام فہم بھی ہو اور باعتبار ادبیت محاوہ روزہ مرہ کی شان بھی، برقرار ہے۔ یہ صرف نذیر احمد کا ہی کارنامہ ہے ۔ ہاں بلاشبہ بعض جگہ ایسے محاورے بھی مستعمل ہوئے ہیں جو کلام الٰہی کی شایان شان نہیں ۔ لیکن اول تا آخر محاورہ روزمرہ کو فنکارانہ عبارت کے ساتھ برقرار رکھنا آپ ہی کا حصہ تھا۔ بحیثیت مجموعی آپ کا قرآنی ترجمہ نہ صرف بہ اعتبار تراجم کہ ادب و دانش میں اپنا جواب نہیں رکھتا۔ آپ کی خصوصیت جس کو بعد کے مترجمین نے بھی تقلید کی ہے وہ یہ کہ مترجم نے جابجا اپنی جانب سے عبارتوں کا اضافہ کیا ہے اور امتیاز کے لئے اپنی خصوصی عبارت کو قوسین میں رکھا ہے یہ عبارتیں کہیں توسیع مطلب تو کہیں تسلسل کلام ، تو کہیں سابق و لاحق کلام کا تعلق بتلانے یا سلیقہاور پختگی ذوق کو ظاہرکرتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ کے ترجمہ کو بعد کے سارے مترجم ، زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
نذیراحمد کا دراصل سرمایہ کمال آپ کی ناول نگاری ہے۔ مولوی عبدالحق کیا خوب فرماتے ہیں ’’مرحوم نذیر احمد اگرمراۃ العروس کے سوا کوئی دوسری کتاب بھی نہ لکھتے تب بھی اردو کے باکمال ادیبوں میں شمار ہوتے اور آپ کی حیات جاودانی کے لئے صرف یہی ایک کتاب کافی ہوتی۔ واقعی نذیر احمد کی ادبی انفرادیت جس نقطہ کمال پر آپ کے ناول نگاری میں ملتی ہے نہ تراجم میں ہے اور نہ مذہبی تصانیف میں آپ کے ناول صرف مخصوص طرز ادا کی بناء پر اردو زبان و ادب میں خصوصی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ بلاشبہ ایک ایسے دور میں جبکہ اردو زبان ناول کی فضا سے روشناس ہی نہ تھی نذیر احمد کا ناول نگاری میں ید طولیٰ حاصل کرلینا اردو ادب میں ایک معرکہ عظیم ہے ۔ لیکن وہیں فنی نقطہ نظر سے نذیر احمد کے ناول خامیوں سے مبرا نہیں بلکہ بعض تو انہیں ناول ہی تسلیم کرنے سے تردید کی ہے لیکن نوزائیدہ اردو نثر کے ابتدائی دور ہی میں ایک نئے فن کی داغ بیل ڈالنا کوئی آسان کام نہیں ۔ اس دور کی زندگی کی سچی تصویر ہمیں نذیر احمد کے ناول کے بجز کہیں اور نہیں ملتی۔ اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خود زندگی ہمارے روبرو مجسم ہوکر آگئی ہے اور چلتی پھرتی باتیں کرتی دکھائی دیتی ہے۔ زندگی کے ان گنت پہلوؤں پر نذیر احمد نے جس صداقت اور وضاحت سے روشنی ڈالی ہے اس کی نظیر اس دور کی شاعری میں اور نہ تاریخ میں ملتی ہے۔
حیات النذیر میں رقم طراز ہیں کہ بعض افراد نے دہلی میں ’’مراۃ العروس‘‘ کے کردار اصغری و اکبری کا مسکان ڈھونڈنے آ نکلتے ہیں اور کہتے ہیں کہ سچ مچ ضرور اصغری و اکبری بھی ہوگزرے ہیں۔ یہ واقعہ بجائے خود نذیر احمد کی حقیقت۱ نگاری پر ایک برجستہ اور جامع تبصرہ ہے ۔ غالباً اردو ادب کی تاریخ میں ایک ایسا کوئی بھی واقعہ موجود نہیں کہ کسی ادیب کے افسانوں کو لوگ یقینی سمجھنے لگے ہوں۔ درحقیقت یہ صرف نذیر احمد کی قوت بیانی اور طرز اداکا ہی جادو تھا کہ لوگوں نے اصغری و اکبری کو سچ مچ کے انسان سمجھ بیٹھے اگر اس کا مطالعہ کریں تو اظہر من الشمس ہوتا ہے کہ اس کے تمام کردار ہمیں بالکلیہ جانے پہچانے قریب تر محسوس ہونے لگتے ہیں بلکہ اس کے باوجود ہم سے وہ کسی قدر دوری پر بھی معلوم ہوتے ہیں یہی کسی قدر دوری ہی ہے جو ناول کی جان اور صحیح کردار کی عکاسی کی علامت ہے جس سے زندگی نیم حقیقی و ہم افسانوی معلوم ہوتی ہے۔ لہٰذا نذیر احمد کے ناولوں کو پڑھنے کے بعد قاری یوں محسوس کرنے لگتا ہے کہ انھیں متعارف انسانوں کا دھوکہ ہوتا ہے گویا انھوں نے ایسے انسانوں کو خوب دیکھا اور ان کی لطف صحبت اٹھاتے رہے ہیں۔ زندگی کی ایسی عجیب و غریب عکاسی کی نظیر ہمیں اردو ادب میں بمشکل دستیاب ہے وہ دراصل نذیر احمد کی سیرت نگاری اور ساتھ ساتھ زبان پر قدرت طرز ادا کا بانکپن ہے ۔ آپ کی عظیم ادبی شخصیت کا اندازہ آپ کے ناول کے کمالات اور واقعات ہیں جن میں آپ کا علم ایک خاص قوتِ حس لے کر اٹھتا ہے اور زندگی کی نکھری تصاویر پیش کرتا ہے۔
نذیر احمد نے اپنے ناولوں میں فنی اور جمالیاتی قدر و قیمت کو پیش نظر رکھا۔ ایک ایسے دور میں جبکہ مسلم معاشرہ روبہ زوال تھا اسلامی روایات دم توڑ رہی تھیں آپ کے ناول قوم میں ترقی اخلاقی سماجی اور سیاسی بیداری پیدا کئے۔ یہ ایک عظیم معرکہ تھا یاد رہے کہ کوئی آرٹ اس وقت تک انسانی روح کی تسکین نہیں کرسکتا جب تک وہ اخلاقی عناصر کا حامل نہ ہو۔ ٹالسٹائی اپنی ڈائری کے ۱۸۹۶ء کے اوراق میں لکھتے ہیں ’’انتہائی جمالیاتی کیف ہمیں کبھی مکمل تسکین نہیں دیتا اور نہ انسان اس کے علاوہ کچھ اور بھی چاہتا ہے اور وہ مکمل تسکین صرف اس چیز سے پاتا ہے جو اخلاقی حیثیت سے اچھی ہو ‘‘ اس طرح نذیر احمد کے ناولوں کی اہمیت بھی سب سے زیادہ اسی اخلاقی قدر و منزلت پر موقوف ہے ۔ آپ نے محض عوامی دلچسپی کے لئے ناول نہیں لکھے بلکہ آپ کا مطمع نظر قوم کی اصلاح و فلاح بہبود تھا۔ اس لئے وہ کرداروں کو اس طرح پیش کرتے ہیں کہ قوم غیر شعوری طور پر اس کی حالت سے آگاہ ہوکر اصلاح و ترقی پر آمادہ ہوجائے کیونکہ ناول نگاری کی بڑی خوبی یہ ہے کہ زندگی کے ذریعہ کردار کو نہیں بلکہ کردار کے ذریعہ زندگی کو بنائیں۔
نذیر احمد کے ناول کے کردار اس قدر سادے اور واضح ہوتے ہیں کہ قاری بہت جلد سمجھ لیتا ہے لیکن جب یہی کردار مزاحیہ یا طنزیہ رنگ اختیار کرجاتے ہیں تو اور بھی دلچسپ بن جاتے ہیں ۔ مرزا ظاہر دار بیگ اور ابن الوقت اس کی بہترین مثالیں ہیں ۔ زندگی بسر کرنے کا انداز سکھانا نذیر احمد کی تصانیف کا سب سے بڑا مقصد ہے۔اور اس کی ترقی و ترویج میں ان کی زبان نے جو کچھ کیا وہ محتاج بیان نہیں۔
البتہ محاورہ روز مرہ سے نذیراحمد نے انداز بیان کا تعلق کسی قدر تفصیل طلب ہے۔ سب سے پہلے یاد رہے کہ محاورے کے دو جز ہوتے ہیں اصلی مفہوم اورمجازی مفہوم دونوں آپس میں زنجیر کی کڑی کی طرح ایک دوسرے سے ایسے مربوط ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ عموماً ادیب زیادہ تر محاورے کے مجازی مفہوم کو بروے کار لاتا ہے ۔ وہ زبان کی مجازی دنیا میں تب ہی رسائی حاصل کرسکتا ہے جب کہ اس میں اعلیٰ قوت تنقید موجود ہو جس کی دخل اندازی صرف زبان کے مجازی پہلو ہی سے نمایاں ہوتی ہے۔ داخلی زبان یا بامحاورہ زبان تفکر تعقل اور تنقید ہی جس کی پیداوار ہوتی ہے۔ اس کے برعکس بے محاورہ یامعروضی زبان میں ان کا فقدان ہوتا ہے۔
فرنیکائزگوون محاورہ کے تعلق سے لکھتے ہیں یہ ایک داخلی حقیقت کا بالواسطہ ارتباطی اور دانستہ تمثیلی اظہار ہے۔ اسی طرح نذیر احمد کے ناول میں بھی اسی حقیقت نگاری کے خدو قال زیادہ نمایاں ہیں یہی داخلی انفرادیت ہے جو انھیں صاحب طرز ادیب کے زمرہ میں ایک وقیع حیثیت عطا کرتی ہے۔
آخرمیں نذیراحمد کے ناولوں کا ایک مختصر جائزہ لیتے ہوئے آپ سے رخصت ہوتا ہوں۔ نذیر احمد کے دوناول لڑکیوں کے لئے ہیں ان کا موضوع تعلیم ، تہذیب اور اخلاق ہے ۔ مراۃ العروس دو سگی بہنوں کا قصہ ہے جس میں ایک سمجھ داراورمتین اوردوسری پھوہڑ اوربدمزاج ۔ قصہ تمام تر اصلاحی ہے لیکن ان کے شگفتہ طرزبیانی مزاح کے لطف کی رنگارنگی سے اس میں دلآویزی پیدا ہوگئی ہے۔ بنات النعش میں افسانوی عنصر تقریبا مفقود ہے موضوع ایک بدمزاج اور پھوہڑ امیرزادی کی اصلاح ہے۔ اس کی آئے دن کی بدعنوانیوں سے تنگ آکر اصغری کے پاس بھیجا جاتا ہے جو پہلے ناول مراۃ العروس کی ہیروئین ہے ۔ نئی زندگی سے متاثر ہوکر وہ ایک سنجیدہ اور سمجھدار بن جاتی ہے۔ توبتہ النصوح تمام تر ایک انگریزی ناول سے ماخوذ ہے ۔ ابن الوقت کا موضوع ہنگامی ہے اس لئے آج ہمیں اس سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی ۔ لیکن نذیر احمدکے زمانے میں یہ ایک نہایت ہی اہم سوال تھا ۔ نذیر احمد انگریزی تعلیم اور تہذیب کے مخالف تو نہیں تھے لیکن انہیں پسند بھی نہ تھا کہ مسلمان معاشرہ اپنی تہذیب کو چھوڑ کر انگریزیت اختیار کریں بعض کا خیال ہے کہ ابن الوقت کا اشارہ سرسید کی جانب ہے۔ اس کے پڑھنے سے یہ خیال صحیح نہیں معلوم ہوتا۔ یہ ناول دراصل ایک تاریخی واقعہ پر مبنی ہے ۔ جان نثاران کی بہترین تخلیق ہے جو خطوط رسانی کے فرائض کے بارے میں دلچسپ پیرائے میں پیش کی گئی ہے۔ فسانہ مبتلاً ایک طبع زاد ناول ہے جس میں تعدد ازدواج کے برے نتائج کو ایک قصہ کے پیرایہ میں دکھایا گیا ہے ۔ ’’ایامی‘‘ ایک اصلاحی ناول ہے جس میں بیوہ کے عقد ثانی کی ضرورت کو ایک قصہ کے پیرایہ میں سلیس زبان میں پیش کیا گیا ہے۔



Comments